نئی دہلی5مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) آل انڈیا تحریک حمایت الاسلام کے صدر،فتح پوری مسجد کے نائب شاہی امام، معروف اسلامک اسکالر اور مفکر ملت مولانا محمد معظم احمد نے آج میڈیا کو جاری ایک بیان میں بلقیس بانو کے معاملہ میں عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کا استقبال کرتے ہوئے کہاکہ عدالت نے جس طرح گیارہ مجرموں کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے وہ انتہائی اہم ہے، لیکن اگر ان کو سزائے موت دی جاتی تو بہتر ہوتا۔ مولانا نے کہاکہ نربھیا کے معاملہ میں عدالت کا مجرمین کو سزا ئے موت دیا جانا انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر بلقیس بانو معاملہ میں بھی سزائے موت دی جاتی تو انتہائی بہتر ہوتا لیکن ہم عدالت کے فیصلہ کا استقبال کرتے ہوئے اس کا احترام کرتے ہیں۔ مولانا محترم نے کہاکہ عدالتوں کو اسی طرح کے فیصلہ ایسے معاملوں میں بھی سنانا چاہئے جو سالوں سال سے زیر التواء ہیں تاکہ وقت سے لوگوں کو انصاف مل سکے۔انہوں نے کہا کہ انصاف میں تاخیر ناانصافی کے مترادف ہے۔مولانانے کہاکہ آج عدالتوں میں لاکھوں ایسے معاملہ التواء میں ہیں جو انصاف کے منتظر ہیں اور لوگ اس دنیا سے جاچکے ہیں۔ مولانا نے کہاکہ عدالت عالیہ کے مذکورہ فیصلے سے لوگوں کا عدالتوں میں اعتماد بڑھا ہے لیکن عدالتوں کے کچھ فیصلے چونکانے والے بھی ہوتے ہیں۔مولانا نے کہاکہ عدلیہ جمہوریت کا انتہائی اہم رکن ہے لیکن جس طرح ممبئی کے مسلم انجینئر کے قتل کے معاملہ میں عدالت کا فیصلہ آیا اور قومی میڈیا میں اس تعلق سے کلی طور پر خاموشی رہی وہ بہتر نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ابھی اذان کے سلسلہ میں بھی ہائی کورٹ کا فیصلہ انتہائی چونکانے والاتھا۔ انہوں نے کہاکہ عدالت کا یہ تبصرہ بالکل بجاہے کہ اذان اسلام کا جزء لاینفک ہے لاؤڈ اسپیکر نہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر عدالت یہی تبصرہ دیگر مذاہب کے پروگرام کے سلسلہ میں دیتی تو بہتر ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان ایک جمہوری اور لادینی ملک ہے۔ ابھی آج ہی اقوام متحدہ میں ہندوستان نے اس بات کا اعادہ بھی کیا ہے کہ مملکت کا کوئی دھر م نہیں ہوتا ہے اور ہندوستان ایک سیکولر اسٹیٹ ہے۔ مولانا نے کہاکہ ہم چاہیں گے کہ عدالتیں زیر التواء معاملوں کی سماعت جلد ازجلد کریں اور خاص طور سے جن نوجوانوں کو سالوں سے جیلوں میں رکھا گیا ہے اور ان کے مقدمہ بھی ابھی تک شروع نہیں ہوئے ہیں ان کو ضمانت دی جائے اور جو نوجوان باعزت دہشت گردی کے الزامات سے بری ہوئے ہیں ریاست کو حکم دیا جائے کہ وہ ان کے اخراجات اور روزگارکے کلی انتظامات کرے۔